11 جنوری 2012 - 20:30

افغانستان ميں طالبان نے کہا ہے کہ امن مذاکرات کا مطلب يہ نہيں ہے کہ وہ افغانستان کے موجودہ آئين کو تسليم اور مسلحہ کارروائياں روک ديں گےـ

ابنا: طالبان نے ايک بيان ميں کہا ہے کہ وہ افغانستان پر مسلط شدہ آئين کو تسليم نہيں کريں گےـ

طالبان اس وقت قطر ميں اپنا سياسي دفتر کھولنے کي کوشش کر رہے ہيں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان ميں قيام امن کے لئے دنيا سے اپنا تعاون اور آپسي افہام و تفہيم کا سلسلہ بڑھانا چاہتے ہيں ـ

يہ بيان ايسے وقت سامنے آيا ہے کہ جب امريکہ اور طالبان کے مابين ايک سال سے زائد عرصے سے خفيہ مذاکرات ہو رہے ہيں اور مذاکرات ميں قطر ميں طالبان کا دفتر کھولے جانے اور طالبان کے سينيئر کمانڈروں کي رہائي جيسے مسائل کا جائزہ ليا جاتا رہا ہےـ

دوسري جانب افغان پيس کونسل نے خبردار کيا ہے کہ کوئي بھي ملک افغان حکومت کو اعتماد ميں لئے بغير طالبان سے مذاکرات کي کوشش نہ کرے اور طالبان کے دفتر کو صرف مذاکرات کے لئے استعمال کيا جانا چاہئےـ سنہ دو ہزار ايک ميں امريکہ کي قيادت ميں افغانستان پر حملہ کيا گيا اور طالبان کي حکومت کا خاتمہ ہو گيا اور اب دس سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد وائٹ ہاؤس نے طالبان سے دوبارہ سودے بازي کا فيصلہ کيا ہےــ.....

/169